منگل، 6 دسمبر، 2016

منگل، 8 نومبر، 2016

بدعت بدعت کرنے والوں کو دعوت فکر

قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے!

* يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ *
{ سورۂ المائدہ آیت ١٠١ پارہ ٧ }

اے ایمان والو مت پوچھو ایسی باتیں کہ اگر تم پر کھولی جاویں تو تم کو بری لگیں اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جاویں گی اللہ نے ان سے در گزر کی ہے اور اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے.

{ ترجمۂ محمود الحسن دیوبندی }

بانی جماعت اسلامی مودودی دیوبندی لکھتے ہیں!
___________________________________________________
نبیﷺ سے بعض لوگ عجیب عجیب قسم کے فضول سوالات کیا کرتے تھے جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضرورت ہوتی تھی اور نہ دنیا ہی کے کسی معاملہ میں۔
مثلاً ایک صاحب بھرے مجمع میں آپ سے پوچھ بیٹھے کہ میرا اصلی باپ کون ہے؟ اسی طرح بعض لوگ احکام شرع میں غیر ضروری پوچھ گچھ کیا کرتے تھے اور خوامخواہ پوچھ پوچھ کر ایسی چیزوں کا تعین کرانا چاہتے تھے جنہیں شارع نے مصلحتاً غیر معین رکھا ہے۔
مثلاً قرآن میں مجملاً یہ حکم دیا گیا تھا کہ حج تم پر فرض کیا گیا ہے ایک صاحب نے حکم سنتے ہی نبیﷺ سے دریافت کیا
کیا ہر سال حج فرض کیا گیا ہے؟
آپ نے کچھ جواب نہ دیا انہوں نے پھر پوچھا آپ پھر خاموش ہوگئے
تیسری مرتبہ پوچھنے پر آپ نے فرمایا
تم پر افسوس ہے اگر میری زبان سے ہاں نکل جائے تو حج ہر سال فرض قرار پا جائے پھر تم ہی لوگ اس کی پیروی نہ کر سکو گے اور نہ فرمانی کرنے لگو گے۔
ایسے ہی لایعنی اور غیر ضروری سوالات سے اس آیت میں منع کیا گیا ہے۔
نبیﷺ خود بھی لوگوں کو کثرت سوال سے اور خوامخواہ ہر بات کی کھوج لگانے سے منع فرماتے رہتے تھے۔

چنانچہ حدیث میں ہے.
«إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ»

مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حرام نہ کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز ٹھہرائی گئی۔

ایک دوسری حدیث میں ہے!
" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَيِّعُوهَا ، وَحَدَّ حُدُودًا فَلاَ تَعْتَدُوهَا ، وَحَرَّمَ أَشْيَاءَ فَلاَ تَنْتَهِكُوهَا ، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ رَحْمَةً بِكُمْ ، غَيْرَ نِسْيَانٍ ، فَلاَ تَبْحَثُوا عَنْهَا "

اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے ان کے پاس نہ پھٹکو کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اسے بھول لاحق ہوئی ہو لہذا ان کی کھوج نہ لگاؤ۔

ان دونوں حدیثوں میں ایک اہم حقیقت پر متنبہ کیا گیا ہے جن امور کو شارع نے مجملاً بیان کیا ہے اور ان کی تفصیل نہیں بتائی یا جو احکام بر سبیل اجمال دیئے ہیں اور مقدار یا تعداد یا دوسرے تعینات کا ذکر نہیں کیا ہے ان میں اجمال اور عدمِ تفصیل کی وجہ یہ نہیں ہے کہ شارع سے بھول ہوگئی تفصیلات بتانی چاہیئے تھیں مگر نہ بتائیں۔
بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شارع ان امور کی تفصیلات کو محدود نہیں کرنا چاہتا اور احکام میں لوگوں کیلئے وسعت رکھنا چاہتا ہے۔

{ تفہیم القرآن جلد1 صفحہ507.508 }

حیران کن امر یہ ہے کہ جب اللہﷻ اور اس کے محبوبﷺ نے وسعت عطا فرما دی اور جب تک منع کا حکم نہ آئے ممانعت نہیں تو ںھر اس اصول اور ضابطہ کو ہم اہلسنت پر فتویٰ داغنے کے وقت مدنظر کیوں نہیں رکھا جاتا؟
محافل میلاد , ایصال ثواب کے جلسے  , کھانے پر قرآن پڑھنا . اذان کے اول آخر برکت کیلئے درود شریف پڑھنا وغیرہ معمولات اہلسنت کو بدعت کہتے وقت علماء دیوبند یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب تک ممانعت کا حکم نہ ہو ممانعت نہیں اور جس کام کے کرنے اور نہ کرنے کے متعلق اللہﷻ اور اس کے مکرم رسولﷺ خاموش ہوں وہ عمل جب شرعاً مباح ہے تو پھر شریعت کے اس قاعدے کو مانتے سے کونسی چیز مانع ہے جب کہ یہ اصول تو خود علماء دیوبند کو بھی مسلّم ہے جیسے کہ مودودی صاحب کا حوالہ گزرا اور اس سے پہلے شبیر احمد عثمانی صاحب کا حوالہ بھی گزر چکا.

اللہ کریم ہدایت نصیب فرمائے!
طالب دعا ; غلام حسین نقشبندی


پیر، 7 نومبر، 2016

(ہر چیز اصل میں جائز ہے)شبیر احمد عثمانی دیوبندی



قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے!

* يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ *
{ سورۂ المائدہ آیت ١٠١ پارہ ٧ }

اے ایمان والو مت پوچھو ایسی باتیں کہ اگر تم پر کھولی جاویں تو تم کو بری لگیں اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جاویں گی اللہ نے ان سے در گزر کی ہے اور اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے.

{ ترجمۂ محمود الحسن دیوبندی }

دیوبندی عالم علامہ شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں !
___________________________________________________
پچھلے دو رکوع کا حاصل احکام دینیہ میں غلو اور تساہل سے روکنا تھا یعنی جو طیبات خدا نے حلال کی ہیں ان کو اپنے اوپر حرام مت ٹھہراؤ اور جو چیزیں خبیث و حرام ہیں خواہ وہ دائمی طور پر یا خاص احوال و اوقات میں ان سے پوری طرح اجتناب کرو۔
ان آیات میں تنبیہ فرما دی کہ جو چیزیں شارع نے تصریحاً بیان نہیں فرمائیں ان کے متعلق فصول اور دورازکار سوالات مت کیا کرو جس طرح تحلیل و تحریم کے سلسلہ میں شارع کا بیان موجب ہدایت و بصیرت ہے اس کا سکوت بھی ذریعہ رحمت و سہولت ہے۔
خدا نے جس چیز کو کمال حکمت و عدل سے حلال یا حرام کردیا وہ حلال یا حرام ہوگئی اور جس سے سکوت کیا اس میں گنجائش اور توسیع رہی۔
مجتہدین کو اجتہاد کا موقع ملا عمل کرنے والے اس کے فعل و ترک میں آزاد رہے اب اگر ایسی چیزوں کی نسبت خوامخواہ کھود کرید اور بحث و سوال کا دروازہ کھولا جائے گا بحالیکہ قرآن شریف نازل ہورہا ہے اور تشریح کا باب مفتوح ہے تو بہت ممکن ہے کہ سوالات کے جواب میں بعض ایسے احکام نازل ہو جائیں جن کے بعد تمہاری یہ آزادی اور گنجائشِ اجتہاد باقی نہ رہے۔
پھر سخت شرم کی بات ہوگی کہ جو چیز خود مانگ کر لی ہے اس کو نباہ نہ سکیں.

پھر آگے لکھتے ہیں!
یا تو مراد یہ ہے کہ ان اشیاء سے درگزر کی یعنی جب خدا نے ان کے متعلق کوئی حکم نہ دیا تو انسان ان کے بارے میں آزاد ہے خدا ایسی چیزوں پر گرفت نہ کرے گا۔
چنانچہ اسی سے بعض علماء اصول نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے. (یعنی ہر چیز اصل میں جائز ہے)

{ تفسیر عثمانی جلد اوّل صفحہ٥٧٧ مطبوعہ دارالاشاعت کراچی }

معلوم ہوا کہ جب تک وحی نازل نہ ہو تو نہ کوئی چیز لازم ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی چیز منع
اور جن چیزوں کے متعلق شریعت مطہرہ نے حکم دیا ہے یا ترغیب دی ہے وہ فرض , واجب , سنت اور مستحب (علی حسب الحکم) قرار پاگئیں جن چیزوں کے متعلق شریعت مطہرہ نے ممانعت فرمائی یا ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے وہ حرام , مکروہ تحریمی , مکروہ تنزیہی اور اسائت (علی حسب الحکم) قرار پاگئیں اور جن چیزوں کے متعلق شریعت مطہرہ نے سکوت فرمایا یعنی نہ حکم و ترغیب نہ ہی ممانعت و ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا وہ سب چیزیں بلاشبہ جائز ہیں!
(یعنی محافل میلاد شریف , ایصال ثواب کے جلسے , اذان سے قبل یا بعد درود و سلام , دعا بعد نماز جنازہ وغیرہ)

ماخوذ از
بدعت اور اس کی حقیقت
از امام المناظرین پروفیسر محمد سعید احمد اسعد صاحب دام ظلہ

طالب دعا ; غلام حسین نقشبندی


ہفتہ، 22 اکتوبر، 2016

کھانا سامنے رکھ کر قرآن پڑھنا "قسط 2"

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم°

اہلسنت کے معمولات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم لوگ کھانا سامنے رکھ کر فاتحہ , اخلاص یا پھر قرآن مجید کی دیگر آیات کی تلاوت کرتے ہیں جب کہ ہمارے مخالفین اس جائز عمل کو بدعت سیئہ,مکروہ اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں باوجود اس کے کہ ہم اہلسنت اپنے دیگر معمولات کی طرح اس کا ثبوت بھی قرآن و سنت سے پیش کرتے ہیں,
مگر یہ حق والوں یعنی اہلسنت کی عداوت ہی کی سزا ہے کہ ہمارے مخالفین ثبوت و دلائل مل جانے کے بعد بھی ہم پر زبان طعن بلاوجہ دراز کرکے اپنی آخرت خراب کرتے رہتے ہیں اور اسی کے ساتھ امت محمدیہﷺ میں انتشار و افتراق کی وجہ بنتے ہیں جو کہ نہایت افسوس ناک امر ہے!

قسط 2 :-
(پچھلی قسط میں فتاوٰی رشیدیہ میں پوچھے گئے سوال میں) سائل کے سوال میں دوسری بات "یہ طریقہ بزرگان سلف سے چلا آتا ہے" پر کلام ان شاءاللہ آگے چل کر کریں گے,
فی الحال سائل کے سوال میں فتاوٰی عزیزی کے حوالے پر کلام پیش خدمت ہے!
گنگوہی صاحب نے جس شخصیت کے فتاوٰی عزیزی کا حوالہ آجانے پر بھی بے دھڑک بدعت کا فتویٰ صادر کیا
یہ وہی شخصیت ہیں جن کے مدّاح خود علماء دیوبند بھی ہیں!

دیوبندی مفتی عزیزالرحمٰن صاحب لکھتے ہیں!

"حضرت مولانا شاہ عبدالعزیزؒ کے علم و فضل و تقویٰ میں کسی کو کلام کی گنجائش نہیں"

اس کے بعد اگلے سوال کے جواب میں حضرت شاہ صاحب کو علماء کبار و اولیائے کرام میں سے لکھا ہے!

فتاوٰی دارالعلوم دیوبند جلد18 صفحہ581
مطبوعہ دارالاشاعت کراچی

دیوبندی شیخ الحدیث مولوی سرفراز خان صفدر گکھڑوی لکھتے ہیں!
"بلاشبہ مسلک دیوبند سے وابستہ جملہ حضرات حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کو اپنا روحانی پدر تسلیم کرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں"

آگے لکھتے ہیں!
"بلاشک دیوبندی حضرات کیلئے حضرت شاہ عیدالعزیز صاحبؒ کا فیصلہ حکم آخر کی حیثیت رکھتا ہے"

اتمام البرھان فی ردّ توضیح البیان حصّہ اول
صفحہ نمبر138 مطبوعہ مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ

لطف کی بات یہ ہے کہ خود گنگوہی صاحب حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی صاحب کے بارے جو نظریہ رکھتے ہیں وہ قابل غور ہے.
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خاندان کے متعلق لکھتے ہیں کہ

"بندہ خاندان حضرت شاہ ولی اللہ صاحب میں بیعت ہے اور اسی خاندان کا شاگرد ہے گو ان کے عقائد کو حق اور تحقیقات کو صحیح جانتا ہے"
پھر آگے شاہ عبدالعزیز صاحب اور ان کی تفسیر کا ذکر ہے!

فتاوٰی رشیدیہ صفحہ58
مطبوعہ ادارۂ صدائے دیوبند

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی علماء دیوبند کے قلم سے اس قدر تعریف کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واضح اور عیاں ہے کہ شاہ صاحب کی شخصیت اور ان کی تصانیف کا علماء دیوبند کے ہاں کیا مقام ہے!
اور بقول سرفراز صفدر صاحب کے شاہ صاحب کا فیصلہ دیوبندی حضرات کیلئے حکم آخر ہے!
(حوالہ پہلے گزر چکا)

¢¢¢¢¢¢ شاہ عبدالعزیز کا فیصلہ ¢¢¢¢¢¢

اب شاہ عبدالعزیز صاحب کا فیصلہ ملاحظہ ہو!
ایک سوال کے جواب میں شاہ صاحب فرماتے ہیں.

"جواب:- جس کھانے کا ثواب حضرت امامین ؓ کو پہنچایا جائے اور اس پر فاتحہ و قُل درود پڑھا جائے وہ کھانا تبرّک ہو جاتا ہے اس کا کھانا بہت خُوب ہے"

فتاوٰے عزیزی صفحہ 189
مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی

والحمد للہ علیٰ ذالک

لیجئے قارئین کرام!
حضرت شاہ صاحب اس کھانے جس پر صرف فاتحہ ہی نہیں بلکہ قل اور درود بھی پڑھا جائے کو برکت والا کھانا کہہ رہے ہیں اور
نہ صرف یہ بلکہ اسے کھانے کو خوب کہہ کر یہ واضح کیا جارہا ہے کہ اس کا تعلق کسی بدعت یا ناجائز امر سے قطعاً نہیں
اب غیرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ دیوبندی حضرات اپنے اکابر کے قلم سے نکلے ہوئے جملوں کا پاس رکھیں اور شاہ عبدالعزیز صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے اس فیصلے کو حرف آخر سمجھتے ہوئے اس جائز عمل کو بدعت و ناجائز کہنا چھوڑ دیں اور
نہ صرف یہ بلکہ خود اس پر عمل کرکے بھی دکھائیں تاکہ ہمیں یقین واثق ہو جائے کہ دیوبندی حضرات کو اپنے اکابر کے قلم سے نکلے ہوئے لفظوں کی غیرت اور پاس ہے اور یہ حضرات واقعی حضرت شاہ صاحب کے فیصلے کو حکم آخر سمجھتے ہیں ! (فافھم)
وگرنہ روحانی باپ اور باپ بھی وہ جس پر بقول سرفراز صفدر دیوبندیوں کو فخر ہے کی نا فرمانی کا سہرا علماء دیوبند کے سرماتھے ہوگا.

#####  أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ #####

پیر، 17 اکتوبر، 2016

کھانا سامنے رکھ کر قرآن پڑھنا جواز , نقد , جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم!
اہلسنت کے معمولات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم لوگ کھانا سامنے رکھ کر فاتحہ , اخلاص یا پھر قرآن مجید کی دیگر آیات کی تلاوت کرتے ہیں جب کہ ہمارے مخالفین اس جائز عمل کو بدعت سیئہ,مکروہ اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں باوجود اس کے کہ ہم اہلسنت اپنے دیگر معمولات کی طرح اس کا ثبوت بھی قرآن و سنت سے پیش کرتے ہیں,
مگر یہ حق والوں یعنی اہلسنت کی عداوت ہی کی سزا ہے کہ ہمارے مخالفین ثبوت و دلائل مل جانے کے بعد بھی ہم پر زبان طعن بلاوجہ دراز کرکے اپنی آخرت خراب کرتے رہتے ہیں اور اسی کے ساتھ امت محمدیہﷺ میں انتشار و افتراق کی وجہ بنتے ہیں جو کہ نہایت افسوس ناک امر ہے!
اب چونکہ کھانا سامنے رکھ کر قرآن ہم پڑھتے ہیں لہذا اپنے اس عمل کی تشریح و توضیح کا حق بھی صرف ہم کو ہے۔

¢¢¢¢¢¢ اہلسنت کے نزدیک ¢¢¢¢¢¢

صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں!
"یوہیں وہ لوگ جو اپنے کو حنفی کہتے ہیں اور ایصال ثواب سے انکار کرتے ہیں وہ بھی اس سے باز آجائیں کہ علاوہ حدیث کے کتب معتبرہ مستندہ حنفیہ کی متعدد عبارتیں پیش کر ذی ہیں کہ انکار کی گنجائش باقی نہیں
اور غالباً انہیں مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے یہ لوگ اپنی طرف سے کچھ باتیں اضافہ کرکے اسے بدعت و ناجائز کہتے ہیں ورنہ ان کے متقدمین تو سرے سے ایصال ثواب سے ہی انکار کرتے تھے اور دلیل وہی پیش کرتے تھے جو معتزلہ پیش کرتے تھے مگر جب اہلسنت کے دلائل باہرہ کا جواب نہ ہوسکا تو عدم جواز کا دوسرا پہلو نکالا
کبھی کہتے ہیں کھانے پر فاتحہ پڑھنا ناجائز ہے اور کبھی یہ کہ ہاتھ اثھا کر فاتحہ پڑھ کر دعا کرنا کبھی یہ کہ کھانا سامنے رکھنا کبھی یہ کہ دن کی تخصیص کرنا غرض ایسی ہی باتیں پیش کر کے ایصال ثواب کو روکنا چاہتے ہیں!
اقول (میں کہتا ہوں) قرآن مجید کی قرأت وجہ ممانعت ہو جائے یہ عجیب بات ہے جب صدقہ اور قرأت قرآن دونوں چیزوں کا ثواب پہنچ سکتا ہے جیسا کہ کتب معتبرہ فقہ سے ثابت ہے عبارات پہلے گزر چکیں تو اگر یہ دونوں کام ایک وقت میں کئے جائیں تو ناجوازی کی کیا وجہ ہے؟
کیا اس وقت قرآن پڑھنا ناجائز ہے؟ یا تصدق ناجائز ہے؟
اور جب دونوں جائز تو ایک ساتھ بھی جائز"

فتاویٰ امجدیہ جلد اول صفحہ٣٥٠
مطبوعہ دائرہ المعارف الامجدیہ

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمتہ بھی جواز کے قائل ہیں.

دیکھئے!
جآء الحق جلد اول صفحہ٢٦١
مطبوعہ نعیمی کتب خانہ لاہور

مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی محمد وقار الدین رضوی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں!

"کھانا وغیرہ سامنے رکھ کر قرآن مجید میں سے کچھ سورتیں پڑھی جائیں اور اس کے بعد ایصال ثواب اور دعا کی جائے یہ اہلسنت کے نزدیک جائز ہے"

وقار الفتاویٰ جلد اول صفحہ١٩٩
مطبوعہ بزم وقارالدین کراچی

عصر حاضر کی معروف علمی شخصیت امام المناظرین شیخ القرآن علامہ فہامہ امام پروفیسر محمد سعید احمد اسعد صاحب دام ظلہ و زید مجدہ فرماتے ہیں!

"یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ ایصال ثواب کیلئے کھانا شرط ہے اور کھانے پر قرآن حکیم پڑھنا شرط ہے.
ہمارے نزدیک اگر کسی نے صرف کھانا پکا کر کسی کو کھلا کر اس کا ثواب میت کو پہنچایا تب بھی جائز
اگر صرف قرآن حکیم پڑھ کر اس کا میت کو ثواب بخشا تب بھی جائز
اگر کسی نے قرآن حکیم بھی پڑھا اور کھانا بھی پکایا لیکن کھانے پر قرآن حکیم نہیں پڑھا بلکہ الگ پڑھا اور ان دونوں چیزوں کا ثواب میت کو پہنچایا تب بھی جائز
ہاں ہاں_____________
اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ جب تک کھانے پر قرآن حکیم کی چند مخصوص آیات نہ پڑھی جائیں اتنی دیر تک میت کو ثواب پہنچ ہی نہیں سکتا وہ در حقیقت شریعت مطہرہ پر افتراء کرنے والا ہے اس کو اپنے اس گندے عقیدے سے توبہ کرنی چاہیئے!
اسی طرح_________
اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ اگر صرف کھانے کا ثواب میت کو بھیجا جائے تو پہنچے گا
اسی طرح اگر صرف قرآن خوانی کی جائے تو اس کا ثواب بھی پہنچے گا لیکن اگر کھانا سامنے رکھ کر قرآن اوپر پڑھا جائے تو ثواب نہیں پہنچے گا بلکہ ایسا کرنا بدعت اور گناہ ہوگا یہ عقیدہ رکھنے والا بھی شریعت مطہرہ افتراء کرنے والا ہے ایسے شخص کو بھی ایسے گندے عقیدے سے توبہ کرنی لازم ہے!
ہاں_________
اگر کوئی اس گندے عقیدے پر اصرار کرے تو اس پر لازم ہے کہ وہ قرآن حکیم , احادیث مبارکہ سے ایسی تصریح پیش کرے کہ قرآن حکیم اور طعام کا ثواب الگ الگ ہونے کی صورت میں تو میت کو پہنچے گا لیکن اگر کھانے پر قرآن حکیم پڑھا جائے تو گناہ ہوگا"

فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ

مسئلہ ایصال ثواب صفحہ نمبر ٥٠ تا ٥٢
مطبوعہ سنی اتحاد شیخ کالونی فیصل آباد

ان بزرگان اہلسنت کی تصریح و تشریح و توضیح سے معلوم ہوا کہ ہم اہلسنت کھانا سامنے رکھ کر قرآن مجید پڑھنے کو جائز سمجھتے ہیں نہ کہ فرض واجب
اور ایسے ہی اس عمل کے تارک کو نشانۂ طعن بھی نہیں بناتے
البتہ اس عمل کو بدعت وغیرہ کہنے والے حضرات کو شریعت پر افتراء کی وجہ سے قصور وار ضرور ٹھہراتے ہیں
علماء اہلسنت کی اس صراحت کے باوجود مخالفین ہمیں کیا کیا الزام دیتے ہیں؟
اس کی جھلک بھی ملاحظہ ہو!

¢¢¢¢¢¢ مخالفین کے الزام ¢¢¢¢¢¢

حنفیت کے دعویدار علماء دیوبند دیگر مسائل کی طرح اس مسئلے میں بھی غیر معمولی شدت اختیار کئے ہوئے ہیں جو عوام الناس کیلئے بہرحال درست نہیں!

دیوبندی حضرات کے قطب مفتی رشید احمد گنگوہی اپنی بھڑاس کچھ اندا ز سے نکالتے ہیں!

"سوال :- فاتحہ کا پڑھنا کھانے پر یا شیرینی پر بروز جمعرات کے درست ہے یا نہیں؟
جواب :- فاتحہ کھانے یا شیرینی پر پڑھنا بدعت ضلالت ہے ہرگز نہ کرنا چاہئیے"
اس سے پہلے والے سوال کا بھی کچھ اسی طرح کا جواب ہے جس میں اس عمل کو بدعت سیئہ کہا گیا ہے.

فتاویٰ رشیدیہ صفحہ١٤٢ کتاب العلم
مطبوعہ ادارۂ صدائے دیوبند

ایک اور مقام پر یوں ہے سوال اور جواب دونوں ملاحظہ ہوں!

" سوال :- فاتحہ,تیجہ,دسواں کرنا کیسا ہے؟_________________________زید کہتا ہے کہ چنوں پر فاتحہ سوم میں اللہ کا نام پڑھنا موجب ثواب ہے کہ اس سے ایصال ثواب منظور ہے اور یہ طریقہ بزرگان سلف سے چلا آتا ہے اس میں کچھ حرج نہیں ہے اور فتاویٰ عزیزی میں یہ طریقہ لکھا ہے پس زید کا قول تمام ہوا ان چنوں کا کھانا کیسا ہے___________________________"
جواب :- یہ جملہ امور بدعت ہیں صرف ایصال ثواب جائز ہے باقی قیودات بدعت ہیں"
اسی طرح اس کے بعد والے سوال کا جواب بھی کچھ یوں ہے کہ یہ سب امور بدعت ہیں!

فتاویٰ رشیدیہ صفحہ١٤٥
مطبوعہ ادارۂ صدائے دیوبند

تعصب و ہٹ دھرمی کی انتہاء ہے کہ سوال میں چنوں پر اللہﷻ کا نام پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو جواب آیا کہ بدعت ہے حالانکہ کلام مجید اس بارے میں اس کے بالکل برعکس فرماتا ہے!

ارشاد ہوتا ہے!
"فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ"

تو کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم اس کی آیتیں مانتے ہو

ترجمۂ کنزالایمان سورہ انعام آیت ١١٨ پارہ ٨

بلکہ اس سے اگلی آیت کریمہ میں گنگوہی اینڈ کمپنی کیلئے لمحۂ فکریہ ہے!

ارشاد باری تعالیٰ ہے!
"وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ"

اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا وہ تو تم پر مفصل بیان کر چکا جو کچھ تم پر حرام ہوا مگر جب تمہیں اس سے مجبوری ہو
بے شک بہتیرے اپنی خواہشوں سے گمراہ کرتے ہیں بے جانے
بے شک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے.

ترجمۂ کنزالایمان سورہ انعام آیت ١١٩ پارہ ٨

قارئین کرام سے گزارش ہے کہ گنگوہی صاحب کا فتویٰ سوال جواب دونوں پڑھیں اور پھر مذکورہ بالا آیت کریمہ کو بھی پڑھیں اور پھر فیصلہ اپنے دل سے لیں کیا آیت کا مضمون لمحۂ فکریہ نہیں؟
قرآن حکیم پہلے حکم فرماتا ہے کہ اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا مگر گنگوہی صاحب اسے بدعت کہتے ہیں اور پھر قرآن حکیم اپنے حکم پر عمل نہ کرنے والوں سے پوچھتا ہے کہ تم اس میں سے کیوں نہیں کھاتے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اور اگر تم اسے بھی حرام سمجھتے ہو تو تمہارا سمجھنا باطل اور وہم ہے کیونکہ حرام کا ذکر تو تفصیلاً ہو چکا
اگر یہ عمل بھی حرام ہوتا تو حرام کردہ چیزوں میں ضرور بیان ہوتا پھر فرمایا
یہ صرف تمہارا وہمِ باطل ہی نہیں بلکہ تمہاری خواہش نفسانی ہے جس سے تم لوگوں کو ایسے فتوے دیکر گمراہ کرتے ہو
اور پھر ساری زندگی کی پڑھائی لکھائی پر پانی پھیرتے ہوئے فرمایا "بغیر علم"
ایسا اس لئے ہوا کیونکہ تم جاہل ہو اور پھر ساتھ ہی فرمایا کہ چند کتابیں پڑھ لینے سے تم عالم نہیں بنے بلکہ اس پڑھائی کے بل بوتے پر جو تم لوگوں کو گمراہ کر رہے ہو تو تم حدیں پھلانگ رہے ہو
تب ہی تو فرمایا
بے شک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے

اسی لئے نائب محدث اعظمؒ پاکستان شیخ الحدیث محمد عبدالرشید صاحب علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں!

"یعنی جس پاکیزہ چیز پر بھی اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اسے کھانا جائز ہے لہذا تیجا,ساتا,دسواں,چالیسواں,سالانہ,گیارہویں شریف,بارہویں شریف,شب برأت وغیرہا کے کھانے جائز ہوئے کیرنکہ ان کھانوں پر قرآن شریف,درود شریف,ذکر و اذکار پڑھے جاتے ہیں
جو انہیں حرام سمجھے وہ شریعت پر زیادتی کرتا ہے!

رشد الایمان صفحہ ١٩٧
مطبوعہ مکتبہ رشد الایمان سمندری

اس کے علاوہ سائل کے ان الفاظ پر بھی غور ہو کہ یہ طریقہ بزرگان سلف سے چلا آتا ہے
مگر گنگوہی صاحب ہیں کہ بنا اس بات کا ردّ کئے بدعت کا فتویٰ داغ رہے ہیں اب اس فتوے کی زد میں کون کون سے بزرگ آتے ہیں یہ آگے چل کر عرض کروں گا ,
سوال میں ایک بات اور قابل غور ہے کہ بقول سائل یہ طریقہ فتاویٰ عزیزی میں مذکور ہے مگر اس کے باوجود بھی گنگوہی صاحب کا قلم بدعت لکھے بغیر رہ نہ سکا اور یوں شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی جیسی علمی شخصیت کے سر بدعت کا تاج سجا دیا گیا. (انا للہ وانا الیہ راجعون)

وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ

یہاں پر "قسط اول" ختم ہوئی بقیہ مضمون اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں

ازقلم
غلام حسین نقشبندی غفرلہ
17 = 10 = 2016 بروز پیر شریف
رابطہ = 0300 7650062