بسم اللہ الرحمٰن الرحیم•
قارئین محترم !
اس سے پہلے قائلین کے پانچ دلائل کا رد پیش کیا جا چکا ہے دیکھئے!
hafiznaqshbandi.blogspot.com
مولائے کائنات کرم اللہ وجھہ الکریم کو مولود کعبہ ماننے والے لوگ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف "ازالتہ الخفاء" کا حوالہ بھی پیش کرتے ہیں حالانکہ حاکم نیشاپوری کے رد کے بعد شاہ صاحب کا حوالہ پیش کرنا سراسر کج فہمی کی دلیل ہے کیونکہ شاہ صاحب اپنی تحقیق کی بناء پر ایسا نہیں فرما رہے بلکہ حاکم ہی کے قول کو نقل کر رہے ہیں حالانکہ ہم پہلی دلیل کے رد میں یہ واضح کر آئے ہیں کہ حاکم کا قول دراصل حاکم کا وہم ہے یا پھر نیم شیعہ ہونے کی ایک کڑی (فافھم)
اور ایسا دعویٰ جس کی دلیل ہے ہی نہیں اور دعویٰ بلا دلیل مردود ہوتا ہے لہذا ایسے مردود قول یا دعوے کو چاہے ایک ہزار بندہ نقل کرتا چلا آئے دلیل نہیں بن سکتا.
اسی لئے قائلین کو شاہ صاحب کا حوالہ کچھ فائدہ نہیں دے گا کیونکہ شاہ صاحب بھی حاکم ہی کا قول نقل کر رہے ہیں.
اللہ پاک ہمیں حق سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے!
طالب دعا
غلام حسین نقشبندی
منگل، 12 جولائی، 2016
مولا علیؓ کو مولود کعبہ ماننے والوں کی چھٹی دلیل کا ردّ
ہفتہ، 9 جولائی، 2016
مولا علیؓ کو مولود کعبہ ماننے والوں کی پانچویں دلیل کا ردّ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم•
اس سے پہلے قائلین کی چار دلیلوں کا ردّ کیا جا چکا ہے ملاحظہ ہو.
hafiznaqshbandi.blogspot.com
مولا علیؓ کو مولود کعبہ ماننے والے شیعہ اور نیم شیعہ سنی اپنے اس مفروضہ کی گرتی ہوئی دیوار کو بچانے کی خاطر "نور الابصار" نامی کتاب کو دین ایمان سمجھتے ہوئے پیش کرتے ہیں!
اور حسب معمول یہاں بھی نرا دعویٰ ہی دعویٰ
دلیل ؟ ؟
وہ شاید امام غائب اصلی قرآن کے ساتھ لے کر آئیں گے :P
لطیفہ یہ ہے کہ نور الابصار کے مصنف الشیخ شبلنجی مولا علیؓ کی ولادت کعبہ میں لکھ کر حوالہ "ابن الصباغ" کا دیتے ہیں اور یہ ابن الصباغ وہی ہے جو "الفصول المھمہ" نامی غیر معروف کتاب کا مصنف ہے جس کا رد ہم دلیل نمبر 3 میں پیش کر آئے ہیں.
اور ظاہری بات ہے جب اصل کا رد ہو گیا تو فرع خودبخود ختم یعنی جب ابن الصباغ کا رد ہو گیا تو اب جو کوئی بھی ابن الصباغ کا حوالہ دے گا اس کا رد خودبخود ہو جائے گا.
لہذا "نور الابصار" کا حوالہ پیش کرنا قائلین کو کسی طرح مفید نہیں کیونکہ یہاں بھی نہ تو کوئی دلیل ہے اور نہ ہی کوئی سند بلکہ جو واقعہ ولادت لکھا ہے وہ بھی ابن الصباغ کی الفصول سے لیا گیا ہے جب کہ الفصول میں بھی اس کی کوئی سند نہیں !
لہذا ایسی موضوع (من گھڑت) روایات سے مولائے کائنات کو مولود کعبہ ثابت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوا سفید ہے کی رٹ لگائے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا جس سے کچھ حاصل نہیں!
اور صاحب نور الابصار الشیخ الشبلنجی ١٣ ھویں صدی ہجری کے علماء میں سے ہیں اور ایسا واقعہ جو ان کی پیدائش سے سینکڑوں سال پہلے کا ہے اس کے بارے ان کی ذاتی رائے یا دعویٰ کچھ حیثیت نہیں رکھتا.
اللہ پاک دین کا فہم عطا فرمائے!
طالب دعا
غلام حسین نقشبندی
مولا علیؓ کو مولود کعبہ ماننے والوں کی چوتھی دلیل اور اس پر نقد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم•
محترم قارئین کرام!
اس سے پہلے قائلین کے تین دلائل کا رد کیا جا چکا ہے جسے ملاحظہ فرمانے کیلئے ہماری بلاگ سائٹ چیک کریں.
hafiznaqshbandi.blogspot.com
مولائے کائناتؓ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کیلئے شیعہ اور نیم شیعہ سنی حضرات " ڈوبتے کو تنکے کا سہارا" پر عمل کرتے ہوئے "سبط ابن جوزی" کی کتاب "تذکرہ الخواص" پیش کرکے بگلیں بجاتے ہیں,
حالانکہ یہاں بھی سند کے اعتبار سے وہی معاملہ ہے جو "المستدرک" "الفصول" اور "نزھتہ المجالس" میں رہا ہے کہ ایک تو دعویٰ بلا دلیل اور اگر کوئی روایت نقل کر ہی دی تو شاید اس کی سند شیعوں کے بارہویں امام غار وغیرہ میں چھپا کر بیٹھے ہیں,
"تذکرہ الخواص" میں بھی فقط دعویٰ ہی دعویٰ ہے نہ کوئی دلیل اور نہ ہی کوئی سند
تو ہم بغیر سند کے کسی واقعہ کا اعتبار کیونکر کریں؟
اور واقعہ بھی ایسا جس سے مذہب شیعہ کو تقویت ملتی ہو (فافھم)
ہم نے اس کتاب کا مطلوبہ صفحہ مع ٹائٹل کتاب کا اسکین نیچے پیش کردیا ہے.
دوسری اور اہم بات کہ سبط ابن جوزی اور "امام ابن جوزیؒ " دو الگ شخصیات ہیں لہذا دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں اور یہ بھی واضح رہے کہ "سبط ابن جوزی" تقیہ باز رافضی تھا
تقریباً ٦٥٤ ھجری میں وفات پائی
اب ایک واقعہ جو سبط ابن جوزی سے کئی سو سال پہلے کا ہے صرف اس کے بیان کرنے سے کیوں تسلیم کیا جائے؟
اور بالخصوص اس وقت کہ جب سبط ابن جوزی کی اپنی پوزیشن یہ ہو کہ اس کے اپنے قلم سے رافضیت ٹپک رہی ہو تو اس وقت سبط ابن جوزی کی اطاعت میں مولائے کائناتؓ کو مولود کعبہ ماننا نری حماقت نہیں تو کیا ہے؟
اللہ تعالٰی غور و فکر کی توفیق عطا فرمائے!
طالب دعا
غلام حسین نقشبندی
جمعہ، 8 جولائی، 2016
مولا علیؓ کو مولود کعبہ ماننے والوں کی تیسری دلیل اور اس پر نقد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم•
محترم قارئین کرام!
اس سے قبل مولائے کائناتؓ کو مولود کعبہ ماننے والوں کی دو دلیلوں کا جواب پیش کیا جا چکا ہے پڑھنے کیلئے ہماری بلاگ سائٹ کا وزٹ کریں.
hafiznaqshbandi.blogspot.com
یہاں تیسری دلیل اور اس پر نقد پیش خدمت ہے!
مولائے کائنات کرم اللہ وجھہ الکریم کو مولود کعبہ ثابت کرنے کیلئے شیعہ اور نیم شیعہ سنی ایک "الفصول المہمہ" نامی غیر معروف کتاب کا سہارا بھی لیتے ہیں باوجود اس کے کہ قائلین امام حاکم کے کہنے پر مولائے کائنات کی کعبہ میں ولادت کو اخبار متواترہ سے ثابت مانتے ہیں,
مگر افسوس اس بات پر کہ جب دلائل کی باری آتی ہے تو "الفصول المہمہ" جیسی غیر معروف کتاب اٹھا کر سامنے کردی جاتی ہے
اس کتاب کے مصنف "علی بن محمد بن احمد المالکی المکی" ہیں جو "ابن الصباغ" کے نام سے مشہور ہیں اور موصوف کی تاریخ وفات "٨٥٥ھ" ہے.
دعوٰی تواتر کا اور دلائل ؟
حاکم کا قول
نزہتہ المجالس کا قصہ
اور الفصول المہمہ جیسی کتاب جس کو اکثر و بیشتر علماء شاید جانتے ہی نہ ہوں!
بہر کیف!
الفصول المہمہ کے مطلوبہ صفحے کا اسکین ہدیۂ قارئین کیا جاتا ہے تاکہ معاملہ عین الیقین کی حد تک پہنچ جائے,
الفصول المہمہ میں بھی نرا دعوٰی ہی دعوٰی ہے دلیل کا نام و نشان نہیں اور اگر کوئی روایت پیش کی گئی ہے تو اس کی سند مفقود ہے اور بغیر سند کے کوئی روایت حجت نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی قدر و اہمیت ہے,
الفصول المہمہ کے مصنف 855ھ میں فوت ہوئے جبکہ مولا علیؓ کی ولادت کا واقعہ ہجرت سے کئی برس پہلے کا ہے لہذا ایسا واقعہ جو صاحب فصول المہمہ کی پیدائش سے بھی کئی سو سال پہلے کا ہے فقط ان کے کہنے پر کیسے مان لیا حائے؟
اللہ تعالٰی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے.
جیسے ہی اس حوالے سے مزید دلائل ملیں گے مکمل دیانتداری سے ان کو اور ان پر نقد کو پیش کیا جائے گا
(ان شاءﷲ الکریم)
لہذا آپ ہماری بلاگ سائٹ کا وزٹ کرتے رہیں.
hafiznaqshbandi.blogspot.com
طالب دعا
غلام حسین نقشبندی
بدھ، 20 اپریل، 2016
مولا علیؓ کو مولود کعبہ ماننے والوں کی دوسری دلیل اور اس پر نقد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
اس سے پہلے بلاگ میں "مستدرک" کا جواب دیا جا چکا ہے!
یہ رہا اس کا لنک
http://hafiznaqshbandi.blogspot.com/2016/04/blog-post_19.html?m=1
اس بلاگ میں دوسری دلیل پر نقد پیش خدمت ہے
مولائے کائنات کو مولود کعبہ ثابت کرنے کیلئے "نزہتہ المجالس" سے ایک واقعہ پیش کیا جاتا ہے ہم نے نزہتہ المجالس کے عربی اردو دونوں صفحات کا اسکین پیش کردیا ہے تاکہ معاملہ مشکوک نہ ٹھہرے اور قاری کو آسانی رہے!
نزہتہ المجالس کے مصنف امام عبد الرحمان بن عبدالسلام صفوری شافعی علیہ الرحمتہ ہیں جو کہ اپنے وقت کے مشہور خطباء میں سے ہیں اور آپ کی تاریخ وفات ٩٠٠ ھجری ہے
آپ نے مولائے کائنات کے مولود کعبہ والا واقعہ "الفصول المہمہ" نامی کتاب سے بغیر سند کے نقل کیا لہذا امام صفوری کا اس واقعہ کو بغیر سند کے نقل کرنا دلیل نہیں بن سکتا
دوسری بات یہ کہ اس بے سند واقعہ میں کعبہ میں پیدا ہونے کو مولا علیؓ کی خصوصیت بتایا جا رہا ہے اور صاف الفاظ ہیں کہ یہ فضیلت کسی اور کو نہیں ملی حالانکہ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ صحابی حکیم بن حزام رضیﷲعنہ کعبہ میں پیدا ہوئے
(جلد ہی اس کے تمام حوالہ جات اسکین پیجز کے ساتھ اپلوڈ کئے جائیں گے لہذا آپ ہماری بلاگ سائٹ کا وزٹ کرتے رہیں)
hafiznaqshbandi.blogspot.com
تو صحیح روایات کی موجودگی میں ایسے بے سند واقعات سے کعبہ میں ولادت کو مولا علیؓ کے ساتھ خاص کرنا ایسے ہی ہے جیسے دن کے وقت آنکھیں بند کرکے سورج کی نفی کرنا اور رات ہونے پر ضد کرنا (فافھم)
رہی بات "الفصول" کی تو اس کا حال بندے کو معلوم نہیں جستجو کرنے پر بھی یہ کتاب دستیاب نہ ہوسکی (جیسے ہی دستیاب ہوگئی تو اس کو مکمل دیانتداری سے پیش کردیا جائے گا)
البتہ قارئین میں سے کسی کے پاس یہ کتاب ہوتو ہمیں "مولود کعبہ" والا مذکورہ واقعہ مع سند اسکین کروا کر عنایت کردیں تاکہ اس کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا جاسکے
لیکن جب تک مذکورہ واقعہ جو نزہتہ المجالس میں الفصول المہمہ کے حوالے سے نقل کیا گیا اس کی سند نہ مل جائے تب تک اس واقعہ کو دلیل ہرگز نہیں بنایا جاسکتا.
طالب دعا
غلام حسین نقشبندی
hafiz.zain.9256@facebook.com
منگل، 19 اپریل، 2016
مولا علیؓ کو مولود کعبہ ماننے والوں کی پہلی دلیل اور اس پر نقد
بسم اللہ الرحمان الرحیم!
ہم اہلسنت اللہ والوں کی ہر خوبی و شان کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں پھر چاہے اس خوبی و شان کا تعلق فضائل سے ہو یا خصائص سے
لیکن تسلیم کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی ہستی کے متعلق شہرت پا جانے والی غلط فہمی کو اس کی فضیلت یا خصوصیت مان لیا جائے اور اس کے انکار پر لعن طعن کیا جائے (العیاذباللہ)
جہاں مولا علیؓ کی طرف اور بہت سی باتیں غلط منسوب ہیں وہاں پر یہ بات بھی بڑے زور و شور سے کی جاتی ہے کہ مولائے کائنات کی ولادت کعبہ میں ہوئی ہے اور نہ صرف یہ کہا جاتا ہے بلکہ اس کو بنیاد بنا کر مولا علیؓ کی شان میں غلو کی حد کردی جاتی ہے اور کعبہ میں ولادت کو مولائے کائنات کی خصوصیت بھی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت اس سے کوسوں دور ہے,
بہر کیف!
مولا علی رضیﷲعنہ کے مولود کعبہ ہونے پر جو پہلی دلیل پیش کی جاتی ہے وہ حاکم نیشاپوری کا قول ہے:
حاکم کہتے ہیں!
"فقد تواتر الاخبار ان فاطمتہ بنت اسد ولدت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجھہہ فی جوف الکعبہ"
پس تحقیق اخبار متواترہ سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد (رضیﷲعنہا) نے امیر المومنین علی بن ابی طالب کرمﷲوجھہہ کو کعبہ میں جنم دیا
المستدرک علی الصحیحین
الجزء الثالث کتاب معرفتہ الصحابہ
الرقم٦٠٤٤ صفحہ٥٥٠ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان
اس قول کو بطور دلیل پیش کرنا کم فہمی ہے کیونکہ حاکم یہاں تو تواتر کا دعویٰ کر رہے ہیں اور فضائل علیؓ کے باب میں ایک بھی صحیح بلکہ صحیح تو دور ایک ضعیف روایت بھی پیش کرنے کی جرأت نہ کرسکے جس میں حاکم کے دعوے کی دلیل ہو تو فقط حاکم کے کہنے پر متواتر کون مانے؟
جب کہ حاکم کی تاریخ وفات ٤٠٥ ھجری ہے
اب ایک واقعہ جو کہ حاکم کی پیدائش سے بھی کئی سو سال پہلے کا ہے اس واقعہ کو حاکم کے کہنے پر تسلیم کرنا اور نہ صرف تسلیم بلکہ متواتر کہنا نا انصافی ہوگا
دوسری بات یہ کہ اس کے تواتر کے دعوے میں حاکم منفرد ہیں ان کے سوا محدثین میں سے کسی نے اس واقعہ کے تواتر کا دعویٰ نہیں کیا,
تیسری اور اہم بات یہ کہ اہل علم جانتے ہیں کہ حاکم نیم شیعہ تھے اور ان کا تواتر کا دعویٰ اسی سلسلے کی ایک کڑی بھی ہوسکتا ہے,
نوٹ
بہت جلد اگلے بلاگ میں بقیہ دلائل پر نقد بھی پیش کیا جائے گا ان شاءﷲ
طالب دعا
غلام حسین نقشبندی
hafiz.zain.9256@facebook.com
پیر، 11 اپریل، 2016
افضلیت سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر چودہ صدیوں کا اجماع امت
پہلی اور دوسری صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=448596422004307&id=100005618585673
تیسری صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=452684611595488&id=100005618585673
چوتھی صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=453464771517472&id=100005618585673
پانچویں صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=457582241105725&id=100005618585673
چھٹی صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=464744630389486&id=100005618585673
ساتویں صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=465099077020708&id=100005618585673
آٹھویں صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=465783936952222&id=100005618585673
نویں صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=466147003582582&id=100005618585673
دسویں صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=466389840224965&id=100005618585673
گیارہویں صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=467102400153709&id=100005618585673
بارہویں صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=467473510116598&id=100005618585673
تیرہویں صدی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=467534716777144&id=100005618585673
چودھویں صدی سے اب تک
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=467810796749536&id=100005618585673