اتوار، 6 دسمبر، 2015

تیری مرضی پاگیا سورج پھرا الٹے قدم

بسم ﷲ الرحمان الرحیم !

حدیث رد شمس
یعنی وہ حدیث جس میں خلیفہ چہارم سیدنا مرتضیٰؓ کی نماز عصر رہ جانے پر حضور ﷺ کے فرمانے سے سورج پلٹ آیا تھا !

اُندلس کے چیف جسٹس (قاضی القضاء) حضرت قاضی عیاض المالکی الیحصُبی الاندلسی ثم مراکشی علیہ الرحمتہ (متوفی ٥٤٤ ھجری) نے اس حدیث کو
امام طحاوی علیہ الرحمتہ کی "مشکل الحدیث" کے حوالے سے نقل کیا ہے اور امام طحاوی سے راویان حدیث کی توثیق بھی نقل کی ہے!

" وھٰذان الحدیثان ثابتان ورواتھما ثقات "

الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ

الجزء الاول صفحہ١٩٢
دارالحدیث القاھرہ (مصر)

النسختہ الثانیہ
الجزء الاول صفحہ١٧٧
دارالکتب العلمیہ بیروت (لبنان)

یہ دونوں حدیثیں (سورج کے پلٹنے والی) ثابت ہیں اور ان کو روایت کرنے والے ثقہ ہیں !

اس کے بعد قاضی علیہ الرحمتہ امام طحاوی ہی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ

" ان احمد بن صالح کان یقول لاینبغی لمن یقول سبیلہ العلم التخلّف عن حدیث حفظ اسماء لانہ من علامات النبوہ "

الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ

صفحہ ١٩٢
دارالحدیث القاھرہ (مصر)

النسختہ الثانیہ
صفحہ ٢٨٤
دارالکتب العلمیہ بیروت (لبنان)

یعنی احمد بن صالح کہتے ہیں کہ اس شخص کو جو علم سے واقف ہے زیبا نہیں کہ حدیث اسماءؓ (یعنی سورج پلٹنے والی حدیث) سے اختلاف کرے اس لئے کہ یہ علامات نبوت میں سے ہے !

شفاء شریف (اردو)
حصہ اول صفخہ 213
مطبوعہ شبیر برادرز لاہور (پاکستان)

شارح شفاء شریف علامہ شہاب الدین الخفاجی المصری علیہ الرحمتہ (متوفی ١٠٦٩ ھجری) ایک لمبی جرح کے بعد فرماتے ہیں !

" وھذالحدیث صححہ مصنف رحمتہﷲتعالیٰ واشار الیٰ ان تعدد طرقہ شاھد صدق علیٰ صحتہ وقد صححہ قبلہ کثیر من الائمتہ کالطحاوی واخرجہ ابن شاھین
وابن مندہ , وابن مردویہ , والطبرانی فی معجمہ وقال انہ حسن "

نسیم الریاض شرح شفاءِ القاضی عیاضؒ
الجزء الثالث صفحہ٤٨٥
دارالکتب العلمیہ بیروت (لبنان)

یعنی یہ حدیث مصنف (قاضی عیاضؒ) کے نزدیک صحیح ہے اور متعدد طرق اس حدیث کے صحیح ہونے پر سچے گواہ ہیں !
اور تحقیق قاضی صاحبؒ سے پہلے امام طحاوی جیسے بہت سے اماموں نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے !
اس حدیث کی تخریج "ابن شاہین" "ابن مندہ" اور "ابن مردویہ" نے کی
اور امام طبرانیؒ نے اس حدیث کو اپنی (حدیث کی کتاب) معجم میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث "حسن" ہے !

علامہ خفاجی علیہ الرحمتہ "احمد بن صالح" کے قول کی شرح میں لکھتے ہیں !

" وھذا مؤید لصحتہ فان احمد ھذا من اکابر ائمتہ الحدیث الثقات ویکفیٰ فی توثیقہ ان البخاری روی عنہ فی صحیحہ "

نسیم الریاض
الجزء الثالث صفحہ٤٨٥
دارالکتب العلمیہ بیروت (لبنان)

یعنی یہ (احمد بن صالح) اس حدیث کو صحیح مانتے ہیں!
پس یہ احمد اکابر ائمہ حدیث میں سے ہیں (اور) ثقہ ہیں (ان کی ثقاہت کا یہ عالم ہے کہ) امام بخاریؒ اپنی صحیح (بخاری) میں ان سے روایت کرتے ہیں !

معلوم ہوا کہ وہ حدیث جس میں حضور علیہ السلام کے فرمانے پر سورج کے غروب ہونے کے بعد واپس پلٹنے کا ذکر ہے وہ حدیث صحیح ہے یا پھر حسن ہے اس سے کم نہیں !

کتابوں کے اسکین پیجز اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں !
والحمدللہ رب العالمین !

جمعرات، 3 دسمبر، 2015

حدیث نور 8 کتابوں کے اسکین پیجز

1- الحافظ الکبیر ابی بکر عبدالرزاق بن ھمام الصنعانیؒ 
( متوفی ٢١١ ھجری )

الجزء المفقود 
من الجزء الاوّل من المصنّف 
( مصنَّف عبدالرزاق )

2- الحافظ شھاب الدین ابوالعباس  احمد بن ابی بکر بن عبدالملک بن محمد القسطلانیؒ المصری الشافعی
( متوفی ٩٢٣ ھجری )

المواھب اللدنیّہ بالمنح المحمدیّہ
الجزء الاول

3- علامہ عبدالقادرؒ بن شیخ بن عبدﷲ العنید روس الحسینی الحضرمی الیمنی الہندی
( متوفی ١٠٣٨ ھجری )

النور السّافر عن اخبار القرن العاشر

4- العلامتہ الفہامہ علی بن ابراھیم بن احمد بن علی بن عمر عرف نورالدین بن برھان الدین الحلبی الشافعیؒ القاھری المصریؒ

انسان العیون فی سیرہ الامین المامون

5- امام محمد بن عبدالباقی المالکیؒ الزرقانی المصری
( متوفی ١١٢٢ ھجری )

شرح العلامتہ الزرقانی علی
المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ للعلامتہ القسطلانی

6- المفسر المحدث الشیخ اسماعیل بن محمد العجلونی الجرّاحی
( متوفی ١١٦٢ ھجری )

کشف الخفاء ومزیل الالباس عمّا
اشتھر من الاحادیث علی السنتہ النّاس

7- حکیم دیوبند مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی

نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب ﷺ

8- مولوی اسلم قاسمی دیوبندی
فاضل دارالعلوم دیوبند

اردو ترجمہ سیرت حلبیہ

اسی ترتیب سے نیچے اسکین پیجز لگائے گئے ہیں !
والحمد للہ رب العالمین !

منگل، 1 دسمبر، 2015

سورہ النحل آیت٢٠-٢١ کی صحیح تفسیر اور وہابیہ کا ردّ

بسم ﷲ الرحمان الرحیم !

کچھ دن پہلے ایک دوست نے وہابیہ کی ایک پوسٹ دکھائی جس میں حسب عادت اہلسنت کو مشرک وغیرہ کہا گیا اور اس کی بنیاد
سورہ نحل کی دو آیات کو بنایا!

ﷲ پاک نے ارشاد فرمایا :

" والذین یدعون من دون ﷲ لا یخلقون شیئا وھم یخلقون •
اموات غیر احیاء ومایشعرون ایان یبعثون• "
سورہ النحل آیت ٢٠-٢١ پارہ ١٤

اور جن جن کو یہ لوگ ﷲ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے ہوئے ہیں
مردے ہیں زندہ نہیں انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے !

(ترجمہ جوناگڑھی نجدی)

وہابیہ کی پوسٹ میں ان آیتوں سے مراد تمام انبیاء واولیاء ہیں جن کے زندہ ہونے کی نفی کی گئی اور ان کا مردہ ہونا واضح کیا گیا
وہابیہ کی پوسٹ نیچے دیکھی جاسکتی ہے!

بجائے اس کے کہ اس پر ہم اپنی جانب سے کوئی تبصرہ کریں
ہم آپ کو مفسّرین کرام کی بارگاہ میں لے چلتے ہیں تاکہ اصل معاملہ کھل کر سامنے آجائے !

1- صحابیٔ رسول سیدنا عبدﷲ بن عباس رضیﷲعنہما کی طرف منسوب تفسیر میں یوں ہے!

" والذین یدعون (یعبدون)
اموات (اصنام اموات)
غیر احیاء (یعنی الآلھہ) "

تنویر المقباس من تفسیر ابن عباسؓ
صفحہ ٢٨٤

یعنی یدعون سے مراد یعبدون ہے
کہ وہ لوگ ﷲ کے سوا جس کی عبادت کرتے ہیں!
اور یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ اہلسنت ﷲ کے سوا کسی کو معبود نہیں سمجھتے !
اور یہ تفسیر واضح کر رہی ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں کو خطاب ہے جو ﷲ کے غیر کی عبادت کرتے تھے اور ظاہر ہے وہ مشرکین ہی ہیں نہ کہ کوئی اور !
آگے اموات سے مراد بتوں کی موت ہے یعنی ﷲ کریم فرمارہا ہے کہ تم جن بتوں کی عبادت کرتے ہو وہ تو مردہ ہیں (غیر احیاء یعنی الآلھہ) جن کو تم نے الٰہ بنا رکھا ہے وہ تو زندہ ہی نہیں ہیں !

2- مفسّر قرآن علامہ آلوسی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں!

" ان المراد من الذین یدعونہم الاصنام  "

اس آیت سے ان لوگوں کا بتوں کو پکارنا مراد ہے

" ای یدعونھم الکفار یعبدونھم "

کافر جن کو پکارتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ کافر جن کی عبادت کرتے ہیں

" والمراد بالموت علیٰ ان یکون المراد من المخبر عنہ الاصنام عدم الحیات "

تفسیر روح المعانی
الجزء الرابع عشر صفحہ١٢٠
ابی افضل شہاب الدین السید محمود الآلوسی البغدادی
(متوفی ١٢٧ھ)

3- امام ابن جریر الطبری علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں !

" والذین یدعون من دونﷲ (واوثانکم الذین تدعون من دونﷲ) "

ﷲ کے علاوہ جن کو پکارتے ہیں ان سے مراد بت ہیں

" اموات غیر احیاء
یقول تعالیٰ ذکرہ لھولاء المشرکین من قریش "

(یہاں وہ تمام مراد ہیں) جن کو  مشرکینِ قریش الٰہ سمجھتے تھے

" ومایشعرون
وما تدری اصناکم التی تدعون من دون ﷲ متیٰ تبعث "

تمہارے بت کیا جانیں جنہیں تم ﷲ کے علاوہ پکارتے ہو کہ کب اٹھائے جائیں گے

جامع البیان عن تاویل آی القران
المشہور تفسیر الطبری
المجلد الرابع صفحہ٥١٠-٥١١
ابوجعفر محمد بن جریر الطبریؒ
(متوفی ٣١٠ھ)

4- امام سمرقندی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں !

(والذین یدعون من دونﷲ)
" ای یعبدون من دونﷲ من الاوثان"

یعنی وہ بت جن کی تم ﷲ کے سوا عبادت کرتے ہو

(اموات غیر احیاء)
" ان الاصنام اموات لیس فیھا روح"
مردوں سے مراد بت ہیں جو مردہ ہیں ان میں روح نہیں ہے

(ومایشعرون)
یعنی الاصنام

یہاں بھی بت ہی مراد ہیں

تفسیر السمرقندی المسمیٰ بحرالعلوم
الجزء الثانی صفحہ٢٣٢
ابی اللیث نصر بن محمد بن احمد بن ابراہیم السمرقندی
(متوفی ٣٧٥ھ)

5- امام ثعلبی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں!

(لایخلقون شیئاوھم یخلقون)
" وصف الاوثان "

وہ کچھ پیدا نہیں کرسکتے یہ بتوں کی صفت ہے !

(غیر احیاء ومایشعرون)
" یعنی الاصنام "

مردوں سے مراد بت ہیں

الکشف والبیان المشہور
تفسیر الثعلبی
الجزء الثالث صفحہ٥١١
الامام ابی اسحٰق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبیؒ
(متوفی ٤٢٧ھ)

6- امام بغوی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں

" اموات ای الاصنام
غیر احیاء یعنی الاصنام  "

مردے ہیں اس سے بھی مراد بت ہیں زندہ نہیں ہیں اس سے مراد بھی بت ہیں !

تفسیر البغوی (معالم التنزیل)
صفحہ ٧٠٧
ابی محمد الحسین بن مسعود البغویؒ (متوفی ٥١٦ھ)

7-علامہ زمخشری فرماتے ہیں!

" والذین یدعون والآلھتہ الذین یدعوھم الکفار "

وہ (بت مراد ہیں) جنہیں کافر الٰہ سمجھ کر پکارتے تھے

" فھم اعجز من عبدتھم اموات جمادات لا حیات فیھا "

پس جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ مجبور ہیں مردے ہیں پتھر ہیں جن میں زندگی نہیں

تفسیر الکشاف
الجزءالثالث صفحہ٤٣١
ابی القاسم محمود بن عمر الزمخشری (متوفی ٥٣٨ھ)

8- امام قرطبی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں!

اموات عیر احیاء
" ای ھم اموات یعنی الاصنام لا ارواح فیھا ولا تسمع ولا تبصر
ای ھی جمادات فکیف تعبدونھا وانتم افضل منھا بالحیات "

وہ مردہ ہیں یعنی بت
ان میں روح نہیں نہ وہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں وہ تو پتھر ہیں
پس تم ان کی عبادت کیسے کرسکتے ہو حالانکہ تم زندہ ہونے کی وجہ سے ان (بتوں سے) سے افضل ہو !

ومایشعرون یعنی الاصنام
یہاں بھی بت ہی مراد ہیں !

الجامع الاحکام القران
المشہور تفسیر القرطبی
الجزء الثانی عشر صفحہ٣٠٩
ابی عبدﷲ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبیؒ (متوفی ٦٧١ھ)

9- قاضی بیضاوی علیہ الرحمتہ کہتے ہیں !

" ای والآلھتہ الذین تعبدونھم من دونہ "

وہ الٰہ (بت وغیرہ) جن کی وہ لوگ عبادت کرتے تھے ﷲ کے سوا

انوارالتنزیل و اسرارالتاویل
المشہور بتفسیر البیضاوی
صفحہ٢٢٣
ناصر الدین ابی الخیر عبدﷲ بن عمر بن محمد الشیرازی الشافعی البیضاویؒ (متوفی ٦٩١ھ)

10- امام ابن عادل حنبلی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں !

" یدل علیٰ ان الاصنام لاتخلق شیئا "
اس کے بعد علامہ ابن عادل نے پوری فصل اسی کے تحت بیان کی اور نام رکھا

" فصل فی وصف الاصنام "

اللباب فی علوم الکتاب
المشہور تفسیر ابن عادل
الجزء الثانی عشر صفحہ٣٨
ابی حفص عمر بن علی بن عادل الدمشقی الحنبلیؒ
(متوفی ٨٨٠ھ)

سعودیہ عربیہ سے (لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے) قران پاک کا جو ترجمہ اور تفسیر مفت تقسیم کی جاتی ہے
اس میں بھی مولوی صلاح الدین یوسف (غیرمقلد) نے اس آیت سے مراد جمادات اور پتھر وغیرہ ہی لکھیں ہیں !
مگر جس کام کا ان کو چندہ ملتا ہے وہ کرنا نہیں بھولے !

بہرکیف !
مذکورہ بالا تفاسیر سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ جس آیت سے وہابیہ انبیاء و اولیاء مراد لے کر مسلمانوں کو مشرک و گمراہ بتاتے ہیں جمہور مفسرین کے مطابق ان سے مراد کفار اور ان کے (جھوٹے) معبود (بت وغیرہ) ہیں !
لہذا اس آیت کو بنیاد بنا کر مسلمانوں پر طعن کرنا دراصل ائمہ وہابیہ کی نمک خواری کا حق ادا کرنا ہے !
لیکن اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہی عمل خوارج کا تھا!

جیسا کہ امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمتہﷲعلیہ نقل کرتے ہیں کہ

" وکان ابن عمر یراھم شرار خلقﷲ وقال انھم انطلقوا الیٰ آیات نزلت فی الکفار فجعلوھا علی المؤمنین"

الجامع الصحیح للبخاری
الجزء الثانی
کتاب استتابتہ المرتدین والمعاندین وقتالھم
باب قتل الخوارج والملحدین بعد اقامتہ الحجتہ علیھم

حضرت ابن عمر رضیﷲعنہما خوارج کو ﷲ کی مخلوق میں سے بری ترین مخلوق سمجھتے تھے اور فرمایا (خوارج) وہ آیات جو کفار کے بارے نازل ہوئی ہیں وہ انہیں مومنین پر چسپاں کرتے ہیں!

ﷲ پاک ہم سب کو با ادب بنائے
اور تادم آخر دامن اہلسنت سے مستحکم وابستگی عطا فرمائے !
آمین بجاہ سیدالمرسلین !
والحمدللہ رب العالمین!

پیر، 30 نومبر، 2015

علم ماکان و مایکون 4 حوالے مع اسکین پیجز

بسمﷲالرحمٰن الرحیم !

اہلسنت و جماعت کا عقیدہ ہے جو ہوچکا ہے جو ہو رہا ہے اور جو ہوگا سب کا علم ﷲ عالم الغیب نے اپنے حبیب صلیﷲعلیہ وسلم کو عطا فرمایا ہے اسی کو

"علم ماکان و مایکون"

کہا جاتا ہے ! مخالفین اہلسنت کے اس عقیدے کو جو کہ قران و حدیث سے ماخوذ ہے مشرکانہ عقیدہ بتاتے ہیں حالانکہ ایسا کہنا ازلی شقاوت کے اظہار کے علاوہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا جب کہ اس کے برعکس
حضور ﷺ کیلئے علم ماکان ومایکون کا عقیدہ دراصل اکابرین و سلف صالحین کا عقیدہ ہے !

جن میں سے یہاں "چار یار" کی نسبت سے چار  اکابرین پیش خدمت ہیں !

ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا !

"خلق الانسان علمہ البیان"
اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا

(ترجمہ جونا گڑھی نجدی)

ان آیات کی تفسیر میں مفسرین نے بہت کچھ لکھا ہے لیکن
مشہور مفسّر امام بغوی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں!

" خلق الانسان یعنی محمداً

صلیﷲ علیہ وسلم
علمہ البیان یعنی بیان ماکان ومایکون "

تفسیر البغوی (معالم التنزیل)
صفحہ ١٢٥٧
ابی محمد حسین بن مسعود البغوی
(متوفی ٥١٦ھ)

اسی طرح قدیم مفسّر امام قرطبی رحمتہﷲعلیہ یوں فرماتے ہیں!

" الانسان ھاھنا یراد بہ محمد صلیﷲعلیہ وسلم ﷺ
والبیان وقیل ماکان ومایکون "

الجامع الاحکام القرآن والمبین لما تضمنہ من السنتہ وآی الفرقان
الجزءالعشرون صفحہ١١٣
ابی عبدﷲ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی (متوفی ٦٧١ھ)

یعنی اس آیت میں انسان سے مراد
محمد صلیﷲ علیہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد (بعض کہتے ہیں)
ماکان ومایکون کا بیان ہے!

ایک اور مفسّر امام ابن عادل حنبلی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں!

" المراد بالانسان ھنا محمد علیہ السلام
علمہ البیان وقیل ماکان ومایکون "

اللباب فی علوم الکتاب
المشہور تفسیر ابن عادل
الجزء الثامن عشر صفحہ٢٩٣-٢٩٤
ابی حفص عمر بن علی ابن عادل الدمشقی الحنبلیؒ (متوفی ٨٨٠ھ)

اسی طرح امام ثعلبی علیہ الرحمتہ کی تفسیر میں موجود ہے!

" خلق الانسان یعنی محمداً صلیﷲ علیہ وسلم 
علمہ البیان یعنی بیان ماکان ومایکون "

الکشف والبیان فی تفسیر القران
المشہور تفسیر الثعلبی
الجزء السادس صفحہ٤٨
العلامہ ابی اسحٰق احمد بن محمد بن ابراھیم الثعلبیؒ (متوفی ٤٢٧ھ)

معلوم ہوا کہ اہلسنت وجماعت کا عقیدہ (متعلق ماکان و مایکون) قرانی اور تفسیری تعلیمات کے عین مطابق ہے !

ہم نے ترتیب وار ان تفاسیر کا ٹائٹل پیج اور صفحہ اسکین کرکے پیش کیا ہے تاکہ معاملہ "عین الیقین" تک پہنچ جائے !

والحمدللہ رب العالمین !

اتوار، 29 نومبر، 2015

مسئلہ حاضر ناظر اور ملا علی قاری حنفیؒ

{±±±±± حاضر و ناظر ±±±±±}

قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمتہ نقل کرتے ہیں کہ
حضرت عمرو بن دینار رحمتہﷲعلیہ نے فرمایا :

" ان لم یکن فی البیت احد فقل :
السلام علی النبی ورحمتہﷲ وبرکاتہ السلام علینا وعلیٰ عبادﷲ الصالحین السلام علیٰ اھل البیت ورحمتہﷲ وبرکاتہ "

الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ

الجزء الثانی صفحہ ٣٠٧
القاضی ابی الفضل عیاض بن موسیٰ بن عیاض المالکی (٥٤٤ھ) الیحصُبی الاندلسی ثم المراکشی
مطبوعہ دارالحدیث القاھرہ (مصر)

اگر کوئی گھر میں نہ ہو تو (داخل ہوتے وقت) یوں کہو !
السلام علی النبی ورحمتہﷲ وبرکاتہ السلام علینا وعلیٰ عبادﷲ الصالحین السلام علیٰ اھل البیت ورحمتہﷲ وبرکاتہ

کتاب الشفاء (اردو)
جلد دوم صفحہ 64
مطبوعہ شبیر برادرز لاہور

شفاء شریف کی شرح کرتے ہوئے ملا علی قاری علیہ الرحمتہ اس مقام پر آکر یوں فرماتے ہیں !

" لان روحہ علیہ السلام حاضر فی بیوت اھل الاسلام "

شرح الشفاء
الجزء الثانی صفحہ ١١٨
الملا علی قاری الھروی الحنفیؒ
(متوفی ١٠١٤ھ)
مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان

(یعنی السلام علی النبی ورحمتہﷲ وبرکاتہ کا حکم اس لئے کیونکہ) نبی کریم ﷺ کی روح ہر مسلمان کے گھر میں حاضر ہوتی ہے!

معلوم ہوا کہ اہلسنت کے وہی عقائد ہیں جو اکابرین اہلسنت کے تھے !
حیرت والی بات یہ ہے کہ اکابرین و سلف صالحین اگر حضور ﷺ کو ہر مسلمان کے گھر جلوہ فرما مانیں تو ان کے ایمان کی بنیاد مضبوط کی مضبوط ہی رہتی ہے اور اگر متاخرین بزرگانِ اہلسنت اسی عقیدے کو " حاضر و ناظر " کے عنوان سے بیان فرمائیں تو شرک کے فتوے صادر فرما دیئے جاتے ہیں!
مخالفین کا یہ دوہرا معیار سمجھ سے بالاتر ہے !

السلام اے حاکم و ناصر رسول
السلام اے حاضر و ناظر رسول

والحمدللہ رب العالمین !
hafiznaqshbandi.blogspot.com

ہفتہ، 28 نومبر، 2015

قبر میں زندگی کا عطا کیا جانا

/<<<<<<< قبر میں زندگی >>>>>>>\
ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا !

" من عمل صالحا من ذکر او انثیٰ وھو مومن فلنحیینّہ حیوٰةً طیّبہ "
سورہ النحل آیت ٩٧ پارہ ١٤

جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے

( ترجمہ مولوی جونا گڑھی نجدی)

دوسری صدی ہجری کے عظیم مفسّر علامہ آلوسی علیہ الرحمتہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں !

" ھی حیوٰة تکون فی البرزخ فقد جآءہ القبر روضتہ من الریاض الجنتہ او حفرہ من حفر النار "

تفسیر روح المعانی فی تفسیر القران العظیم والسبع المثانی
الجزء الرابع عشر صفحہ ٢٢٦
مفتیٔ بغداد العلامہ ابی الفضل شہاب الدین السید محمود الآلوسی البغدادی
(متوفی ١٢٧ھ)

قران پاک کی آیت میں حیوٰة سے مراد وہ زندگی ہے جو قبر میں عطا کی جائے گی !
پس قبر یا تو جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے یا آگ کے گڑوں میں سے گڑا

معلوم ہوا جو مومن نیک اعمال کرے ﷲ اسے قبر میں عمدہ زندگی عطا فرماتا ہے جب عام مومن کو قبر میں پاکیزہ زندگی دی جاتی ہے تو
مومنوں سے شہیدوں کی زندگی اعلیٰ
شہیدوں سے نبیوں کی زندگی اعلیٰ
اور سارے نبیوں سے امام الانبیاء ﷺ کی زندگی اعلیٰ ہے!
بحمدﷲ ہم اہلسنت زندہ نی کے زندہ غلام ہیں !

تو زندہ ہے وﷲ تو زندہ ہے وﷲ
میرے چشم عالم سے چھپ جانے والے

والحمدللہ رب العالمین !

لفظ نبی کا ترجمہ اور اکابرین

[______ لفظ نبی کا معنی ______]

چھٹی صدی ہجری کی مشہور اور علمی شخصیّت قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمتہ لفظ نبی کا معنی و مفہوم یوں بیان فرماتے ہیں!

" والمعنیٰ ان ﷲ تعالیٰ اطلعہ علیٰ غیبہ "

الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
الجزء الاول صفحہ ١٥٧
القاضی ابی الفضل عیاضؒ مالکی الیحصُبی اندلسی ثم مراکشی
(متوفی ٥٤٤ھ)
مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان

النسختہ الثانیہ
صفحہ ١٦٩
مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ (مصر)

" اس کا معنی یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے اسے غیب پر مطلع فرمایا ہے "

کتاب الشفاء (اردو)
جلد اول صفحہ 388
مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور (پاکستان)

دوسرا نسخہ
حصہ اول صفحہ 178
مطبوعہ شبیر برادرز لاہور (پاکستان)

شفاء شریف کی اس عبارت کی شرح کرتے ہوئے
علامہ شہاب الدین خفاجی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں !

" (والمعنیٰ) ای معنیٰ  النبی المفھوم من الکلام علیٰ ھذا القول (ان ﷲ اطلعہ علیٰ غیبہ) ای اعلمہ واخبرہ بمغیباتہ "

نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض
الجزء الثالث صفحہ ٣٤١
شہاب الدین احمد بن محمد بن عمر الخفاجی المصری
(متوفی ١٠٦٩)
مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان

علامہ خفاجیؒ فرماتے ہیں کہ قاضی عیاضؒ نے لفظ نبی کا جو معنی بتایا ہے کہ

" ﷲ نے اسے غیب پر مطلع کیا ہے "
اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جسے مغیبات کا علم اور مغیبات کی خبریں دی جاتی ہیں !

معلوم ہوا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ نے جو لفظ نبی کا ترجمہ

" غیب کی خبریں بتانے والا "

کیا ہے یہ ترجمہ اکابرین و سلف صالحین کی تعلیمات اور ان کے عقائد کے عین مطابق ہے !

والحمدللہ رب العالمین!